بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی کامیابی کے بعد ممکنہ وزیرِاعظم طارق رحمان کو عالمی رہنماؤں کی جانب سے مبارکبادیں مل رہی ہیں۔
شہباز شریف نے بھی نئی بنگلہ دیشی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
انہوں نے ایکس پر بیان میں بی این پی کی کامیابی پر طارق رحمان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان تاریخی، برادرانہ اور کثیرالجہتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کے لیے نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔
ماضی میں شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کی حکومت کو پاکستان مخالف اور انڈیا نواز سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اگست 2024 میں عوامی احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی انڈیا روانگی سے صورتحال میں بنیادی تبدیلی آئی۔
بعد ازاں عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ روابط بڑھائے، تجارتی سرگرمیوں میں پیش رفت ہوئی، ویزا سہولت میں نرمی کی گئی اور فضائی آپریشن بھی بحال ہوا۔
عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کے وزیرِاعظم سے ملاقاتیں بھی کیں۔
بی این پی کی کامیابی کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔
بی این پی کی کامیابی: پاکستان کے لیے کتنا فائدہ؟
کچھ ماہرین کے مطابق بی این پی کی کامیابی پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت ہے، تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کے لیے انڈیا سے تعلقات خراب کر کے آگے بڑھنا آسان نہیں ہوگا۔
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار حسن عسکری رضوی کے مطابق شیخ حسینہ کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات محدود تھے، جبکہ اب ایک ایسی حکومت آ رہی ہے جو پاکستان سے بہتر روابط کی خواہاں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بی این پی کے دور میں، خصوصاً خالدہ ضیا کی حکومت کے تحت، پاکستان سے تعلقات دوستانہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش مل کر جنوبی ایشیا میں استحکام اور تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔
دفاعی امور کے تجزیہ کار اکرام سہگل کے مطابق بی این پی اور جماعتِ اسلامی کو عمومی طور پر انڈیا مخالف جماعتیں سمجھا جاتا ہے، اس لیے بنگلہ دیش میں جو جماعت انڈیا مخالف ہو گی، اس کا جھکاؤ فطری طور پر پاکستان کی جانب ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس وقت بنگلہ دیش میں انڈیا مخالف جذبات پائے جاتے ہیں، تاہم پاکستان کو یہ خدشہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں نئی حکومت انڈیا سے قریبی تعلقات استوار کر سکتی ہے۔
انڈیا کے ساتھ تعلقات: نئی حکومت کی مجبوری
حسن عسکری رضوی کے مطابق بنگلہ دیش کی کوئی بھی حکومت انڈیا سے تعلقات خراب نہیں کر سکتی کیونکہ دونوں کے درمیان طویل زمینی سرحد ہے اور خلیجِ بنگال میں بھی انڈیا کا اثرورسوخ موجود ہے۔ ان کے بقول نئی حکومت حقیقت پسندانہ خارجہ پالیسی اپنائے گی اور انڈیا کے ساتھ تعلقات معمول پر رکھے گی، تاہم یہ روابط شیخ حسینہ کے دور جیسے قریبی نہیں ہوں گے۔

دفاعی اور معاشی تعاون کی بات
اکرام سہگل کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور بنگلہ دیش واقعی تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ویزا سہولت اور ٹیرف فری پالیسی اپنانی ہو گی۔
انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسا دفاعی معاہدہ بھی ہو سکتا ہے جس کے تحت ایک ملک پر حملے کو دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے، جیسا کہ ماضی میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے میں ہوا۔
ان کے مطابق انڈیا کی پالیسیوں سے اس کے کئی ہمسایہ ممالک نالاں ہیں، اور یہی عنصر حالیہ عرصے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب لانے کا سبب بنا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ خطے میں پاکستان، بنگلہ دیش اور چین کے درمیان ایک نئی صف بندی ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔
’یہ پاکستان کے لیے اچھی خبر ہے‘
نریندر مودی نے ٹیلی فون پر طارق رحمان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی اور دونوں ممالک میں امن، ترقی اور خوشحالی کے عزم کا اظہار کیا۔
طارق رحمان نے بھی اس رابطے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق حالیہ رابطے اس بات کی علامت ہیں کہ انڈیا نے بی این پی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔
اسی تناظر میں شیخ حسینہ کے صاحبزادے سجیب واجد نے انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ عبوری حکومت کے پاکستان سے بڑھتے روابط انڈیا کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتے ہیں۔
شیو نادر یونیورسٹی کے پروفیسر ہیپیمون جیکب نے ہندوستان ٹائمز میں لکھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً چار ہزار کلومیٹر طویل سرحد کے باعث دراندازی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، اور پاکستان و چین اس کشیدگی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
’انڈیا سب سے پہلے اپنا قومی مفاد دیکھے گا‘
سابق انڈین سفارت کار سومین رائے کے مطابق عالمی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی خارجہ پالیسی کا دار و مدار اس کے اسٹریٹجک مفادات پر ہے، اور مستقبل میں بنگلہ دیش کے حوالے سے بھی یہی اصول کارفرما رہے گا۔
ان کے بقول اگر کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ تعلقات انڈیا کے قومی مفاد کے مطابق ہوں گے تو نئی دہلی اسی راستے کو اختیار کرے گا۔