ٹی ٹی پی خطے سے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہے‘: ’پاکستانی موقف کی تائید کرتی‘ اقوامِ متحدہ کی افغانستان سے متعلق نئی رپورٹ کیا معنی رکھتی ہے؟

ٹی ٹی پی خطے سے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہے‘: ’پاکستانی موقف کی تائید کرتی‘ اقوامِ متحدہ کی افغانستان سے متعلق نئی رپورٹ کیا معنی رکھتی ہے؟

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ کمیٹی کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکام اگرچہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی خراسان شاخ اور بعض دیگر گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان حکام کی جانب سے خاصی آزادی اور سہولت حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی وجہ سے پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور خطے میں کشیدگی بھی بڑھی ہے۔

تازہ رپورٹ: افغانستان میں سرگرم گروہوں اور پاکستان کے تحفظات

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ کمیٹی کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکام اگرچہ نام نہاد دولتِ اسلامیہ کی خراسان شاخ اور بعض دیگر گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، تاہم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان حکام کی جانب سے خاصی آزادی اور سہولت حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی وجہ سے پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور خطے میں کشیدگی بھی بڑھی ہے۔

پاکستان نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دستاویز اس کے دیرینہ مؤقف کی تائید کرتی ہے کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی موجودگی بدستور برقرار ہے۔

عاصم افتخار احمد، جو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی کی دہشت گرد سرگرمیوں کا اصل ہدف پاکستان ہے اور یہ خطرہ افغانستان کی سرزمین سے جنم لیتا ہے۔ ان کے مطابق اس گروہ کو افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت، سہولت کاری اور وسائل تک رسائی حاصل ہے، جو اس کی کارروائیوں کو تقویت دیتی ہے۔

رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستانی حکومت مسلسل یہ الزام عائد کرتی آ رہی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی بڑی شدت پسند کارروائیوں میں ملوث کالعدم ٹی ٹی پی کو افغانستان میں قائم طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

گزشتہ برس ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان متعدد سرحدی جھڑپیں ہوئیں، جن کے بعد قطر اور ترکی کی سفارتی کوششوں سے دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی ممکن ہو سکی تھی۔

’ٹی ٹی پی خطے سے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہے‘

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض رکن ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹی ٹی پی اپنے حملوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے القاعدہ کے ساتھ تعاون میں اضافہ کر سکتی ہے اور یوں یہ گروہ خطے سے باہر بھی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

مانیٹرنگ کمیٹی کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کو بھی افغان حکام کی سرپرستی حاصل ہے اور یہ تنظیم ٹی ٹی پی کو تربیت اور عملی رہنمائی فراہم کر رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ غیر ملکی افواج کی جانب سے افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ، پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف ٹی ٹی پی کے حملوں کو مزید مہلک بنا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی جدید رائفلز، نائٹ وژن آلات، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، سنائپر سسٹمز اور ڈرون حملہ آور نظام استعمال کر رہی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بنیادی طور پر افغانستان کے صوبوں ننگر ہار، کنڑ، خوست اور پکتیکا تک محدود ہیں۔ یہ تمام علاقے پاکستان کی سرحد سے متصل ہیں اور سرحدی پٹی میں تشدد کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے مزید کہا ہے کہ سنہ 2025 کے دوران پاکستان میں حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک سال کے دوران 3500 سے زائد حملوں میں ٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کی شکایات درج ہوئیں، جن میں سے 2100 حملے جولائی سے دسمبر 2025 کے درمیان کیے گئے۔

یہ امر بھی واضح کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اس نوعیت کی رپورٹس ماضی میں بھی باقاعدگی سے جاری ہوتی رہی ہیں۔

’ٹی ٹی پی خطے سے باہر بھی ایک خطرہ بن سکتی ہے‘
TTP
’ٹی ٹی پی خطے سے باہر بھی ایک خطرہ بن سکتی ہے‘
TTP

ماہرین اور صحافیوں کی رائے

افغانستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ایسی رپورٹس ہر سال جاری ہوتی ہیں اور طالبان حکومت کے قیام سے پہلے بھی یہ سلسلہ جاری تھا۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹس میں یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی سے وابستہ افراد کی تعداد چھ سے سات ہزار کے درمیان ہے، تاہم آزاد ذرائع اس تعداد کو اس سے کہیں زیادہ بتاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی بنیادی طور پر القاعدہ اور افغان طالبان کی تشکیل کردہ ایک تنظیم ہے اور القاعدہ کو عالمی سطح پر ایک بڑی شدت پسند تنظیم تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس حقیقت کا اعتراف ٹی ٹی پی کے سربراہ مفتی نور ولی محسود نے اپنی کتاب انقلاب محسود میں بھی کیا ہے۔

دوسری جانب سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ٹی ٹی پی کی صلاحیتوں اور خطے سے باہر دنیا کے لیے ممکنہ خطرات کے حوالے سے حقائق کو کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

ان کے مطابق اب ٹی ٹی پی وہ تنظیم نہیں رہی جو بیت اللہ محسود یا حکیم اللہ محسود کے دور میں ہوا کرتی تھی اور جس کا باقاعدہ عالمی ایجنڈا بھی ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ٹی ٹی پی اپنے بیانات میں عالمی ایجنڈے کا ذکر تک نہیں کرتی۔

سمیع یوسفزئی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حالیہ رپورٹ میں کوئی نئے شواہد پیش نہیں کیے گئے بلکہ زیادہ تر نکات پہلے سے موجود معلومات کی ہی تکرار ہیں۔

ان کے بقول، اگرچہ ٹی ٹی پی پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ضرور ہے، تاہم اس کی تمام تر توجہ اب صرف پاکستان تک محدود ہو چکی ہے۔

افغانستان اور پاکستان کا مؤقف

افغانستان کے حکام ان تمام الزامات کو مسترد کرتے آئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کسی ایسی تنظیم کی پشت پناہی نہیں کرتی جو کسی دوسرے ملک میں جا کر پُرتشدد کارروائیاں کرے۔

افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے چند روز قبل کہا تھا کہ افغانستان کی سلامتی سے متعلق خدشات بے بنیاد ہیں، ملک محفوظ ہے اور یہاں کوئی غیر ملکی یا غیر مجاز مسلح گروہ موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک یا گروہ کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

بی بی سی نے اس رپورٹ پر مؤقف جاننے کے لیے ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی سے رابطے کی کوشش بھی کی، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ رپورٹ کے مطابق افغان ڈی فیکٹو حکام نے متعدد دہشت گرد گروہوں، خصوصاً ٹی ٹی پی، کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے، جس کے نتیجے میں اسے زیادہ آزادی اور سہولت میسر آئی اور پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا، جب کہ خطے میں کشیدگی بھی مزید بڑھ گئی ہے۔