اہم خبریں

فوجی عدالتیں کیا ہیں اور ان میں عام شہریوں کے خلاف مقدمات کی کارروائی کیسے ہوتی ہے؟

’میرے والد کو فوجی عدالت کی طرف سے سزا سنائے جانے کو بھی ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن ابھی تک اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔‘

یہ الفاظ سماجی کارکن ادریس خٹک کی بیٹی تالیا خٹک کے ہیں جن کے والد کو فوجی عدالت نے دسمبر سنہ 2021 میں ڈورن حملوں سے متعلق زمینی معلومات فراہم کرنے کے الزام میں 14 برس قید کی سزا سنائی تھی۔

ادریس خٹک فوجی عدالت سے سزا پانے والے واحد سولین شہری نہیں ہیں۔ پاکستان میں فوجی عدالتوں کے تحت مختلف نوعیت کے مقدمات میں گذشتہ چند برسوں کے دوران درجنوں سولین شہریوں کو سزائیں دی جا چکی ہیں۔

تاہم حالیہ دنوں میں نو مئی کے واقعات کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے فوجی عدالتوں میں مبینہ ملزمان کے خلاف مقدمات چلانے کی منظوری دی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ کسی عام شہری کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمے کی کارروائی کیسے ہوتی ہے اور ان کے وکلا کو کن مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔

تالیا خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف انھوں نے جو اپیل دائر کی ہے اس کے ساتھ عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول انھیں عدالتی فیصلے کی کاپی ہی فراہم نہیں کی گئی۔

تالیا خٹک کا کہنا ہے کہ پراسیکیوشن برانچ کے حکام کی طرف سے گذشتہ ماہ ان کے وکیل کو ادریس خٹک کی چارج شیٹ دکھائی گئی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اپنے والد ادریس خٹک کے مقدمے کو زیادہ نہ اچھالیں اور ’خاموش رہیں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ادریس خٹک کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔‘

تالیا خٹک کا کہنا تھا کہ ان کے والد کی گرفتاری کے بعد ان کی فیملی کے افراد شدید مالی پرشانیوں کا شکار ہیں کیونکہ وہی خاندان کے واحد کفیل تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے والد اس وقت اڈیالہ جیل میں ہیں جہاں انھیں سی کلاس میں رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والوں کو جیل میں سی کلاس ہی دی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے والد کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے اور ان کے مطابق ان سے اڈیالہ جیل کے اندر قائم فیکٹری میں کام کروایا جاتا ہے۔

سویلین کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں کیسے بھیجا جاتا ہے؟

واضح رہے کہ اگر کسی شخص پر الزام ہو کہ اس نے فوج کی کمان کے خلاف کوئی بیان جاری کیا یا تقریر کی یا فوج کے ماتحت افسران کو اپنی کمان کے خلاف بغاوت پر اکسایا، یا فوج سے متعلق حساس معلومات کسی غیر ملکی کو دیں اور یا پھر جمہوری حکومت کے خاتمے کے لیے فوج کو اقتدار سنبھالنے پر اکسایا تو اس شخص کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جاتا ہے۔

پاکستان کے ملٹری ایکٹ میں بھی اس کا طریقہ کار موجود ہے۔

جبری طور پر گمشدہ افراد کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر اگر کسی سویلین کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے تو فوج کی جج ایڈووکیٹ جنرل یعنی جیگ برانچ کا نمائندہ متعقلہ سیشن جج کو ملزم کی حوالگی کے بارے میں درخواست دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ملزم پارٹی کی طرف سے اس اقدام کوعدالت میں چیلنج کیا جائے تو پھر سیشن جج یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بجھوا سکتا ہے اور وفاقی حکومت سے منظوری ملنے کے بعد متعقلہ سیشن جج ملزم کو فوج کے حوالے کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نومئی کے واقعہ کے ذمہ داروں کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلانے سے متعلق پارلیمان نے قرار داد منظور کی تھی جس کے بعد وفاقی حکومت نے ان افراد کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں بھیجنے کی منظوری دی۔

اس لیے جن افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں بجھوائے گئے تو متعقلہ سیشن جج نے ان کے مقدمات کے حوالے سے وفاقی حکومت سے رابطہ نہیں کیا۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ جب کسی سویلین کا معاملہ فوجی عدالت میں چلا جاتا ہے تو فوج کی پراسیکوشن برانچ کا ایک افسر ملزم کے خلاف تمام شواہد اکھٹے کرتا ہے اور تمام شواہد کا ریکارڈ ملزم کو فراہم کردیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملزم کو شواہد کا ریکارڈ فراہم کرنے کے 24 گھنٹوں کے بعد اسے اس مقدمے کی سماعت کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت میں پیش کیا جاتا ہے۔

یہ خصوصی عدالت تین ارکان پر مشتمل ہوتی ہے اور اس تین رکنی ارکان کی سربراہی کرنے والے کو پریذیڈنٹ کہا جاتا ہے جو کہ لیفٹیننٹ کرنل رینک کا افسر ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی اہم مقدمہ ہو تو پھر جیگ برانچ کا نمائندہ بھی اس خصوصی عدالت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

ملزم پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اسے اپنے وفاع کے لیے وقت دیا جاتا ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ سات روز کا ہوتا ہے۔

فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ملزم کو خود یا اپنے وکیل کے ذریعے پراسیکوشن کی طرف سے پیش کیے گئے شواہد یا گواہان پر جرح کرنے کا حق ہے۔ اس کے علاوہ ملزم کو اپنے دفاع میں کوئی گواہ یا دستاویزات بھی پیش کرنے کا حق ہوتا ہے۔

سات روز کے اندر دونوں اطراف سے کارروائی مکمل کرنے کے بعد یہ تین رکنی بینچ اپنی رائے مرتب کرکے کنوئنگ اتھارٹی کو بھیجے گا اور یہ اتھارٹی برگیڈئر یا میجر جنرل رینک کے افسر کی ہوگی۔

اس تین رکنی بینچ کی رائے پر مبنی جو بھی فیصلہ ہوگا وہ کھلی عدالت میں نہیں بتایا جائے گا بلکہ ملزم جس یونٹ کی تحویل میں ہوگا اس کو اس سزا کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

مجرم کو سزا سے متعلق آگاہ کیے جانے کے بعد اسے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور مجرم کے پاس اس سزا کے خلاف چالیس روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔

اپیل دائر ہونے کی صورت میں مجرم کی اپیل سننے کے لیے ایک عدالت قائم کردی جاتی ہے جسے کورٹ آف اپیل کہا جاتا ہے اور یہ عدالت بھی مجرم کی اپیل پر ایک ہفتے کے اندر فیصلہ سنا دیتی ہے۔

کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کا کہنا تھا کہ اگر مجرم کی نظرثانی کی درخواست کورٹ آف اپیل سے مسترد ہوجاتی ہے تو پھر مجرم کے پاس فوجی عدالت کے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا حق ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ بھی فوجی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتی ہے تو پھر مجرم ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا حق رکھتا ہے۔

وکلا کو فوجی عدالتوں میں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

فوجی عدالتوں میں متعدد مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری کا کہنا ہے کہ سویلین کا کورٹ مارشل کے ٹرائل کے دوران ملزم کے وکیل کو ان دستاویزات تک رسائی نہیں دی جاتی جو پراسیکوشن کو حاصل ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ متعدد مقدمات میں ایسا ہوا ہے کہ فوجی عدالت نے کسی مقدمے کا فیصلہ سنایا ہو تو اس فیصلے کی کاپی یا تو ملتی ہی نہیں اور اگر ملتی بھی ہے تو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں کارروائی چونکہ ملٹری ایکٹ کے تحت ہی چلتی ہے تو متعدد وکلا کے پاس اس ایکٹ کی کاپی بھی موجود نہیں ہوتی جس کو پڑھ کر وہ اپنے موکل کا دفاع کر سکے۔

انھوں نے کہا کہ متعدد مقدمات میں آرمی ایکٹ کی کاپی نہ ہونے کی وجہ سے وکلا اپنے موکل کا دفاع نہیں کر پاتے۔

انھوں نے کہا کہ اور تو اور سپریم کورٹ کے پاس بھی آرمی ایکٹ کی کاپی موجود نہیں ہے جس کا برملا اظہار سپریم کورٹ کے متعدد ججز بھی کھلی عدالت میں کرچکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عام عدالتوں اور فوجی عدالتوں میں فرق یہ ہے کہ سویلین عدالتوں میں کسی بھی شخص کو جانے کی اجازت ہوتی ہے جبکہ فوجی عدالتوں میں ملزم اور اس کا وکیل پراسیکوشن اور اگر کسی گواہ کو طلب کیا ہو تو اس کو ہی جانے کی اجازت ہوتی ہے۔

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں جو فوجی افسران عدالتی کارروائی کنڈکٹ کرتے ہیں ان کی لیگل ٹرینگ نہیں ہوتی اور نہ ہی انھیں قانون شہادت اور دیگر قوانین کے بارے میں زیادہ معلومات ہوتی ہیں جبکہ سول عدالتوں میں کام کرنے والے ججز اور پراسکیوٹرز قانون پڑھ کر اور لیگل ٹریننگ حاصل کرکے وہ اس مقام پر پہنچتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگرچہ فوجی عدالتیں آئین کے تحت قائم کی گئی ہیں لیکن سپریم کورٹ کے اپنے فیصلوں میں کہا ہے کہ انتہائی ناگزیر حالات میں کسی سویلین کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کیا جا سکتا ہے۔

بی بی سی نے عام شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات کی کارروائی اور اس کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے تاہم اب تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 29 سویلین کا کورٹ مارشل کرنے پر سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کہ خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر ہوئی ہے۔

اس درخواست میں سویلین کے حقوق کی خلاف ورزی پر عمران خان ، سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ 29 میں سے صرف پانچ افراد کو وکلا تک رسائی کی اجازت دی گئی جن پانچ افراد کو وکلا تک کی رسائی دی گئی ان میں سماجی کارکن ادریس خٹک بھی شامل ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت قرار دے کہ عمران خان، جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ اور لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے اختیارات سے تجاوز کیا اور ان تینوں اشخاص نے خلافِ قانون شہریوں کو اغوا کیے رکھا لہذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔